ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / باغیوں کو آدتیہ کا کھلا چیلنج، 20 اُدھو کے رابطے میں آگئے

باغیوں کو آدتیہ کا کھلا چیلنج، 20 اُدھو کے رابطے میں آگئے

Mon, 27 Jun 2022 11:23:35    S.O. News Service

ممبئی، 27؍ جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) بحران اور بغاوتوں  پر قابو پانے کیلئے شیوسینا ایک طرف جہاں اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور کارکنوں کو یکجا رکھنے کیلئے سرگرم ہوگئی ہے تو دوسری جانب ا س نے باغیو ں  کے تعلق سے رویہ سخت کرتے ہوئے  انہیں  استعفیٰ دیکر اپنے بل بوتے پر دوبارہ الیکشن جیت کا دکھانے کا کھلا چیلنج کیا ہے۔اس بیچ ذرائع کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق  گوہاٹی میں خیمہ زن ناراض اراکین اسمبلی میں  سے کم از کم ۲۰؍ وزیراعلیٰ اُدھو ٹھاکرے کے رابطے میں آگئے ہیں۔ شیوسینا کیلئے یہ خبر جہاں اطمنان بخش ہے وہیں یہ اطلاع پریشان کن ہے کہ اس کا ۹؍ واں وزیر باغیوں کے خیمے میں شامل ہوگیا ہے۔ 

 شیوسینا سربراہ اُدھو ٹھاکرے  کے فرزند اور ریاستی وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے اتوار کو باغی لیڈروں  کو ’’شیطانی منصوبوں ‘‘ کا حامل قرار دیتے ہوئے  اتوار کو پراعتماد لہجے میں کہا کہ ’’اگر تمام ایم ایل اے باغی ہوجائیں تب بھی جیت پارٹی کی ہوگی۔‘‘ لگاتار  دوسرے دن ممبئی میں پارٹی  کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ باغیوں کیلئے پارٹی اور ریاست کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ ا نہوں نے علم بغاوت بلند کرنے والے شیوسینا کے اراکین پارلیمان اور وزیروں کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’’دوبارہ الیکشن لڑ کر دکھاؤ،ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تم جیت نہ پاؤ۔‘‘ ۳۰؍ سالہ آدتیہ ٹھاکرے نے بی جےپی کا نام لئے بغیر کہا کہ انہیں اس پارٹی پر شرم آتی ہے جو مرکز اور آسام میں برسراقتدار ہے۔اس نے ایک ریاست کی حکمراں جماعت کے اراکین اسمبلی کو لیا اور شمال مشرق کی ایسی ریاست میں رکھا ہے جو سیلاب سے جوجھ رہا ہے۔ 

  آدتیہ ٹھاکرے نے بتایا کہ ایم ایل ایز کو ’’قیدیوں‘‘ کی طرح گوہاٹی لے جایاگیاہے۔  ان کے مطابق ’’۱۲؍ سے ۱۴؍ ایم ایل اے اب بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔‘‘ دوسری طرف ذارئع سے  ملنے والی اطلاعات کے مطابق  باغی خیمے کے  کم و بیش ۲۰؍ایم ایل اے  جنہیں گوہاٹی میں  رکھا  گیا ہے، وزیراعلیٰ اُدھو  ٹھاکرے  کے رابطے میں ہیں۔  آدتیہ ٹھاکرے جو ماحولیات اور ٹورزم کے ریاستی وزیر ہیں، نے باغی اراکین اسمبلی کو للکارتے ہوئے کہا کہ ’’جب یہ ایم ایل اے واپس آئیں توانہیں ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ بتانے کی ہمت ہونی چاہئے کہ ہم نےان کیلئے کیا نہیں کیا۔‘‘

 اُدھو ٹھاکرے کے جواں سال بیٹے نے کہا کہ ’’ان لوگوں کی خواہشات شیطانی ہوگئی ہیں۔‘‘ ایکناتھ شندے کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ ’’ان کی پارٹی میں بہت عزت تھی۔ ابھی مئی میں ہی ان سے پوچھا گیاتھا کہ کیا وہ وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ مجھے ان پر غصہ نہیں   آتا بلکہ افسوس ہوتاہے۔‘‘

  اس بیچ شیوسینا کا ایک اوروزیر باغی ہوگیا۔  اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے ریاستی  وزیراُدئے سامنت    اتوار کو گوہاٹی پہنچ گئے۔ شندے کیمپ میں شامل ہونے  والے  وہ اُدھو ٹھاکرے کے ۹؍ ویں وزیر ہیں۔  ان سے قبل کابینی وزیر گلاب راؤ پاٹل، دادابھُسے، سندیپن بھومرے، وزیر مملکت شمبھو راجے  دیسائی اور عبدالستار عبدالنبی باغی خیمے میں  شامل ہو چکے ہیں جن کا تعلق شیوسینا سے ہے۔ان کے علاوہ اس کی اتحادی پارٹی  سے وزیر بچو کڑو اور آزاد رکن اسمبلی  راجیندر یڈراؤکر جو شیوسینا کے کوٹہ سےوزیر ہیں، بھی باغیوں  کے ساتھ گوہاٹی پہنچ چکے ہیں۔ دو تہائی سے زیادہ اراکین اسمبلی کی بغاوت کے باوجود شیوسینا کا دعویٰ ہے کہ وہ ایوان اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کردیگی۔اسے امید ہے کہ ممبئی  واپسی پر کئی باغی اس کے خیمے میں آجائیں گے۔‘‘ اس دوران این سی پی سربراہ شرد پوار حالات پر قابو پانےکیلئے اتوار کو بھی  سرگرم  رہے۔ 


Share: